Wednesday, 6 December 2017
Tuesday, 5 December 2017
سجدہ تلاوت کا حکم
قرآن مجید
میں چودہ آیتیں ایسی ہے جن کو پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے چاہے پوری
آپوری آیت کو یا سجدہ والے لفظ کو اگلے پچھلے الفاظ کے ساتھ پڑھ لیا جاے سجدہ واجب ہو جاتا ہےاس سجدہ کو سجدہ تلاوت
کہتے ہیں
نبی صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے
جب آدمی
سجدہ کی تلاوت کرتا ہے تو شیطان ایک کونے میں بیٹھ کرآہ و بکاہ کرنے لگتا ہے اور
کہتا ہےہاے افسوس آدم کی اولاد کو سجدہ کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا اور جنت
کی مستحق ہو گئ اور مجھے سجدے کاا حکم دیا
گیا تو میں نے انکار کردیااور میں نار جہنم کا مستحق ہوا
سجدہ تلاوت کے مقامات
قرآن پاک
میں ایسی آیتیں جن کے پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے کل چودہ ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے
سورہ
الاعراف آیت 206 ۔
بلا شبہ
جو فرشتے آپ کے رب کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائ کے غرور میں
آکر اس کی زندگی بجا لانے سے منہ نہیں موڑتےوہ ان کی پاکی بیان کرتے ہیں ا ور اس
کے آگے سجدہ ریز رہتے ہیں
سورہ
الرعد آیت 15
اور وہ
اللہ ہی ہیں جس کو آسمان وں اور زمین کی ہر چیز چارو ناچار سجدہ کر رہی ہیں اور ان
چیزوں کے ساے صبع شام اس کے آگے جھکتے ہیں،
سورہ
النحل آیت 49 50
اور اللہ
ہی کے حضور سجدہ ریز ہیں آسمانوں اورزمین کے سارے جاندار اور فرشتےاور وہ ہرگز اس
کی بند گی سے سرتا بی نہیں کرتے وہ اپنے
رب سے جو ان کے اوپر ہیں ڈرتے رہتے ہیں ا ور وہی کچھ کرتے ہیں جن کا انہیں حکم دیا
گیا ہے
سورہ بنی
اسرائیل آیت 109
اور وہ
قرآن سنتے ہوے منہ کے بل گر جاتے ہیں اور ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہیں
سورہ مریم
آیت 58
جب ان کو
رحمن کی آیتیں پڑھ کر سنائ جاتیں تو وہ روتے ہوے سجدے میں گر جاتے،
سورہ حج
آیت 18
کیا تم
دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے حضور وہ ساری مخلوق سر بسجود ہے جو آسمانوں میں ہیں اور
اور زمین میں ہیں ا ور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور
بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ ہیں جن پر خدا کا عذاب لازم ہو چکا ہے اور جس کو
خدا ذلیل کر دے اس کو پھر کوئ عزت دینے والا نہیں بے شک اللہ جو چاہتا ہےکرتا ہے
سورہ الفرقان
آیت 60
اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اس رحمن کو سجدہ کرو تو جواب دیتے ہیں
یہ رحمن کیا ہوتا ہے کیا بس جسے تم کہہ دواسی کو ہم سجدے کرنے لگ جائیں اور دعوت
ان کی نفرت اور بیزاری میں الٹا اور اضافہ کر دیتی ہے
سورہ
النمل آیت 25 26
کہ وہ اس
اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور
زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے
اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو اللہ جس کے سوا کوئ
عبادت کا مستحق نہیں جو عرش عظیم کا مالک ہے
سورہ
السجدہ آیت 15
ہماری
آیات پر تو صرف وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں یہ آیتیں سنا کر جب یاد دہانی کرائ
جاتی ہے تو سجدہ میں گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی حمد اور تسبیح کرتے ہیں اور غرور
میں آکر اس کی سر تابی نہیں کرتے
سورہ ص
آیت 24 25
اور داود
علیہ السلام سجدہ میں گر گےء اور رجوع کر لیا اور تب ہم نے انکا وہ قصور معاف کر
دیا اور یقینا ہمارے ہاں ان کے تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے
سورہ
النجم آیت 62
پس سجدہ کرو واسطے اللہ تعالی کے اور اسی کی عبادت کرو
سورہ
انشقاق آیت 20 21
تو ان لوگوں کو کیا ہوا ایمان نہیں لاتے اور جب ان کے سامنے قرآن
پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے
سورہ
العلق آیت 19
اور سجدہ
کرو اور خدا کا قرب حاصل کرو ۔
سورہ حم
السجدہ آیت 38
اگر یہ
لوگ دین س ے بے نیازی دکھائیں تو کوئ پرواہ نہیں جو فرشتے آپ کے رب کے حضور مقرب
ہیں وہ سب وروز اسکی تسبیح میں لگے ہوے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے،
Thursday, 30 November 2017
نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا منع ہے
نماز میں جمائ لینے سے حتی الوسع پرہیز کرنا چاہیے
نما ز میں نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانا منع ہے
نماز میں انگلیاں چٹخانا یا انگلیوں میں انگلیاں ڈالنا منع ہے
نماز میں منہ ڈھانپنا منع ہے
نماز میں کپڑا دونوں کندھوں پر اس طرح لٹکانا تاکہ
اس کے دونوں سرے زمین پر ہو سدل کہلاتاہے
جو کہ منع ہے
نماز میں کپڑے سمیٹنا یا بال درست کرنا یا بالوں کا
جو ڑا بنانا نیز بلا عذ ر کوئ بھی حرکت کرنا منع ہے
سجدہ کی جگہ سے بار بار کنکریاں ہٹانا منع ہے
نما ز میں ادھر ادھر دیکھنا منع ہے
تکیہ پر سجدہ کرنا یا گدیلے پر نماز پڑھنا منع ہے
اشارے کی نماز میں سجدے کے لیے سر کورکوع کی نسبت زیادہ جھکانا چاہیے
نماز میں آنکھیں بند کرنا منع ہے
Friday, 1 July 2016
ر و ز ہ کے دو رکن ہے
طلو ع فجر سے غر و ب آفتا ب تک رو ز ہ تو ڑ نے و ا لی چیز و ں سے
ر سو ل اکر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ار شا د ہے اعما ل کا د ا ر و مد ا ر
نیت پر ہے ا و ر ہر آ د می کو وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت
کر ے نیت فجرسے
پہلے ہی کر لینی چا ہیے نیت دل سے کی جا تی ہے زبا ن سے ا دا کر نا ضر و
ر ی نہین مر د اگر عا
قل و با لغ ہے تو اس پر رو ز ہ فر ض ہے عو
ر ت کے
لیے ا ن شر ا یط کے علا وہ اسے حیض و نفا س سے بھی پا ک ہو نا چاہیے
بو رھے مر د
ا و ر بو ڑھی عو ر ت او ر مر یض کے
لیے ر و ز ہ ضر ر ی
نہیں ان پر ہر ر و ز ہ کے بد لے فدیہ و ا جب ہے فد یہ ر و ز ا نہ ایک مسکین
کی خو را ک ہے
مسا فر مریض ا و ر دو دھ پلا نے و ا لی عو ر ت
حیض ا و ر نفا س و ا لی عو
ر ت ر و ز ہ نہ
رکھے او ر بعد میں اس کی قضا ء کرے
عید الفطر ا و ر عید الا ضحی کے دن ر و ز ہ رکھنا منع ہے ا یا م تشر یق
یعنی گیا ر ہ با ر ہ تیر ہ ذی ا لحجہ کو
ر و ز ہ رکھنا حر ا م ہے خو ہ نفلی رو
زہ ہو یا فر ض یہ کھا نے پینے ا و ر
ذ کر الہی کے دن ہے
عو ر ت اپنے شو ہر کی اجا زت کے بغیر نفلی ر و ز
ہ نہ رکھے شک کے دن
رو ز ہ رکھنا حر ا م ہے رو زا نہ بلا نا غہ ر و ز ہ ر کھنا ممنو ع ہے افضل یہ
ہے کہ ایک دن چھوڑ کر دو سر ے دن رو زہ رکھے
نفلی رو زے
شوا ل کے چھ ر و ز ے رسو لاللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر
ما یا جس نے
رمضا ن کے سب ر و ز ے رکھے پھر شو ا ل کے
چھ ر و ز ے
رکھے اس نے گو یا پو رے سا ل
کے ر و ز ے رکھے
عا شو ر ہ کا روز ہ ۔ محرم کی د سو یں تا ریخ کو ایک دن آگے یا بعد میں ملا
کر عا شو ر ہ کی نیت سے ر و ز ہ رکھنا شعبا ن میں کثر ت سے ر و ز ہ رکھنا
حضرت عا یشہ رضی اللہ عنہا فر ما تی ہے کہ میں نے رسو ل اکر م صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ رمضا ن کے
علا وہ سب سے زیادہ شعبا ن کے
مہینے میں رو ز ہ رکھتے تھے
نفلی ر و زہ شر و ع کر کے تو ڑ دینا جا ئز ہے
زالحجہ کے عشر ہ اول کے نو رو زے غیر حا جیو ں
کے لیے
ا یا م بیض کے رو زے ۔ حضرت ابو ذ ر غفا ری فر
ما تے ہے کہ رسو ل اکرم
صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فر ما یا کہ ہر مہینے کے تین
د ن یعنی تیر ہ چو د ہ
پند ر ہ کو رو ز ہ رکھیں او ر فر ما یا یہ ز ند گی بھر رو زہ رکھنے کے برا بر ہیں
Monday, 27 June 2016
کن لو گو ں پر ز کو ۃ فر ض ہے
اس آ ز ا د مسلما ن پر ز کو ہ فر ض ہے جو ز کو ۃ کے کسی قسم کے ما ل کے
نصا ب کا ما لک ہو
نصا ب ز کو ۃ کے
لیے ضر ری ہے کہ ما ل آ د می کی بنیا دی
ضر و ر ت
سے بچا ہا ہو جیسے کھا نے پینے،لبا س ، مکا ن سو ا ر ی
کا م کر نے کے
ضر و ری سا ما ن
وغیرہ
اس بچے ہو ے ما ل پر ایک سا ل گز ر چکا ہو اس پر ز کو ۃ فر
ض ہے
اگر کسی کا ما ل پھنسا ہو ا ہو ا و ر اس کا بر وقت وصو ل ہو نا یقینی نہ ہو تو
ا س ما ل پر ز کو ۃ
اس وقت ا دا کی جا ے گی جب و ہ وصو ل ہو جا ے
لیکن
قر ض ایسی جگہ ہو کہ جب بھی
ضر و ر ت پڑے وصو ل ہو سکتا ہو تو اس پر
ز
کو ۃ فر ض ہے
ا گر کسی کے ذمہ قر ض و ا جب لا د ا ہو ا و ر اس کے قر ض کی
مقد ا ر نصا ب سے ز ا ئد ہو ۔ یا قر ض کی وجہ سے
ما
ل کی مقد ا ر نصا ب سے کم ر ہ جا تی ہو
تو ایسی صو ر ت میں اس پر ز کو ۃ فر ض نہ ہو گی
سو نے چا ندد ی کے زیو را ت اگر سو نے چا ند ی کے نصا ب کے بر ا بر ہوں تو
ا ن پر ہر سا ل ز کا ۃ و ا جب ہے
ا و ر ان کا نصا ب بھی سو نے چا ندی کے نصا ب کے مطا بق ہو
گا
Tuesday, 8 March 2016
خدا
٭ خدا کی خوشنو دی ایما ن کا ثمر ہے
خدا سے سو دا گری کرو خو ب نفع کما و گے
خدا کی نعمتوں کا بے مو قع اور نا مناسب مصرف
ناشکری ہے
غلطی کرنا انسان کی فطرت اور معاف کرناخدا
کی فطرت ہے
کسی برا ئ کو معمو لی سمجھ کر اختیا ر نہ کرو
ممکن ہے
اس سے خدا رو ٹھ جا ے
خدا کے نز دیک زیا دہ عز ت والا وہ ہے جو زیا دہ
پر ہیز
گا ر ہے
جسکو لو گو ں پرحم نہ آ یا خدا اس پر رحم نہ کرے گا
روپے کی خدا کے یہاں عزت نہیں
اگر کو ئ تم پر احسا ن کرے تو پہلے حق کا شکریہ
ادا کرو
پھر اس کا کیو نکہ خدا نے اسے تم پر مہر با ن کیا
اللہ تعالی کو یہی پہچاننے کی نشا نی ہے کہ
خلق سے بھاگے
اور اد نی بات جو عا رف کو
ضرو ری ہے وہ یہ ہے
کہ ما لک و ملک سے پر ہیز کیا جا ے
خدا کی جستجو عرش پر کی جا تی ہے آسما ن والے
اسے
زمین پر تلاش کرتے ہےاور شکستہ دل بندے کو ڈھونڈتے
ہیں کیونکہ خدا نے فر
ما یا ہےکہ میں عرش پر چھا رہا
ہوں اور رسو ل نے کہا کہ مو من کا دل ہی عرش ہے
جو ان بوڑھوں سے اور بوڑھے جوانوں سے خدا کی
بابت
امید رکھتے ہیں کہ ان سے سرا غ ملے
خدا کے نز د یک سب سے افضل شخس وہ ہے جو با ر
خلق
کھینچےاور خو ے خوش رکھے تین قسم کے
اشخا ص کو
خدا تک را ستہ ہے علم اور حجرے
وا لے کو
گد ڑی اور مصلے وا لے کو
اہل وعیا ل والے اور کاروبار والے اللہ تعا لے
خلق پر شفقت نہیں
یقین کا مل وہ ہے کہ جب تجھ پر کوئ مصیبت آے تو حق
تعا لے پر الزا م نہ لگا ے
بلکہ را حت تصور کر کے اس کا
شکریہ ادا کرے
اللہ تعا لے کے سوا کسی دو سری شےسےدل کو اطمینا ن
دینا
داخل حرم ہے ایسے شخص
کو یقین کی بو بھی نصیب نہ ہو
گی حضرت ابو بکر شبلی ایک دفعہ آگ اٹھا کر چل پڑے کہ
جا کر کعبے کو جلا تا ہوں
تا کہ اس سے ہٹ کر لو گ خدا وند کعبہ کی طر ف متوجہ
ہوں
Subscribe to:
Posts (Atom)
