Sunday, 10 December 2017



د و ز خ



جہنم کا فر و ں کی سزا کی جگہ ہے گنہگا ر بھی   
  جاے گے یہ بہت سخت   د رد نا ک  خو ف نا ک جگہ ہے یہ کا لی را ت کیطر ح سیا ہ ہے بہت سخت ہے ر و شنی نہیں ہے  اس  کی آ گ د نیا کی آگ سے 69 گنا ز یا دہ ہے ا گر جہنمی کو جہنم کی آ گ سے نکا ل کر د نیا کی آ گ میں ڈ ا لا جا ے تو اسے نیند آ جا ے

جہنم کے د ر و ا ز

جہنم
سقر

لظی
حطمہ  
سعیر
جحیم
ہا و یہ
جہنمیو ں کا لبا س
ا ن کے لبا س گند ھک کے ہو نگے  اور آ گ ان کے چہر و ں پر چڑ ھی ہوءی ہو گی ان کے چہر و ں کوبد صو ر ت اورسیا ہ کر دیا جا ے گا

    جہنمیو ں کا کھا نا
 سورہ ابر اہیم آیت 16۔17۔18۔
ا سکے سا منے د وزخ ہے جہا ں پیپ کا پانی پلا یا جاے گا جسے بمشکل گھو نٹ گھونٹ پیے گا  پھر بھی اسے گلے سے اتا رنہ سکے گا  اور اسے ہر جگہ مو ت آتی د کھائ دے گی لیکن وہ مر نے وا لا نہیں پھر اسکے پیچھے بھی سخت عذ ا ب ہے پیپ اور خو ن جو جہنمییوں کے جسم سے نچو ڑ ا ہوا ہے  اور بعض احا د یث میں ہے  کہ یہ ا تنا صد ید ہو گا  کہ ان کے منہ کے قر یب پہنچتے ہی ان کے چہرے کی کھا ل جھلس کر گر پڑ ے گی اور اس کا ایک گھو نٹ پیتے ہی ان کے پیٹ کی آنتیں پا خا نے کے را ستے با ہر آجا ءےگی
سو رہ واقعہ ایت 93
اور کھو لتےہوے گر م پانی کی مہما نی ہے جہنم کی آ گ 69 درجہ زیا دہ ہو گی

Saturday, 9 December 2017


عرش الہی کے سا ےء میں جگہ پا نے وا لے خو ش نصیب
حضر ت ابو ہر یر ہ رضی اللہ عنہ سے ر و ا یت ہے  کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا سا ت قسم کے لو گو ں  کو اللہ اپنے سا ےء میں جگہ دے گا  جس دن اللہ کے سا ےء کے سوا کو ئ  سا یہ نہ ہو گا

ا نصا ف کر نے و ا لا حا کم

و ہ جوا ن  جس نے  اللہ کی عبا د ت میں جوا نی پو ری کی ہو 

وہ  شخص جس کا دل مسا جد میں لگا ہوا  ہو


و ہ دو آ د می  جنہو ں نے اللہ کے  لئے محبت کی اسی پر جمے رہے اور اسی 

پر الگ ہو ےء

وہ شخص جسے کو ئ صا حب اثر ا و ر حسین و جمیل عو ر ت اپنی طر ف بلا 

ےء اور وہ کہ دے کہ میں اللہ سے ڈر تا ہو ں


اور وہ شخص جس نے اتنی خا مو شی سےصد قہ کیا کہ اس کے  با ئیں ہا 

تھکو خبر نہ ہو سکی کہ دا ہنے ہا تھ نے کیا خر چ کیا


  
وہ شخص جس نے تنہا ئ میں اللہ کو یا د کیا اور اس کی آ نکھو ں سے خو ف 

کے آ نسو ں بہ نکلے 

Wednesday, 6 December 2017

  1. دلوں کا سخت ہوناسورہ بقرہ آیت74پھر اسکے بعد تمہارے دل پتھر جیسے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہو گے بعض پتھروں سے تو نہریں  بہ نکلتی ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں ا ن سے پانی نکل آتاہے اور بعض اللہ تعالی سے گر گر کر گر پڑتے ہیں اور تم اللہ تعالی کو اپنے اعمال سے غافل نہ جانوپتھروں کی سنگینی کے باوجود ان سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں اور جوجو کیفیت ان پر گزرتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہیں کہ پتھروں کے اندر بھی ایک قسم کا ادراک اور احساس موجود ہے اس لیے اہل ایمان کو خاص طور پر تاکید کی گئ ہےسورہ الحدید آیت 16اہل ایمان ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو اس سے قبل کتاب دی گئ لیکن مدت گزرنے کے بعد ان کے دل سخت ہو گےدلوں سخت ہو جانا یہ افراد اورامتوں کے لیےسخت تباہ کن اور اس بات کی علامت ہوتاہے کہ دلوں سے اثر پذیری کی صلاحیت سلب اور قبول حق کی استعدادختم ہو گئ ہے اس کےبعد اسکی اصطلاح کی توقع کم  اور مکمل فنااور تباہی کا اندیشہ زیادہ ہو جاتاہے

Tuesday, 5 December 2017

 سجدہ تلاوت  کا حکم
قرآن مجید میں چودہ آیتیں ایسی ہے جن کو پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے چاہے پوری آپوری آیت کو یا سجدہ والے لفظ کو اگلے پچھلے الفاظ کے ساتھ پڑھ لیا جاے  سجدہ واجب ہو جاتا ہےاس سجدہ کو سجدہ تلاوت کہتے ہیں
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے
جب آدمی سجدہ کی تلاوت کرتا ہے تو شیطان ایک کونے میں بیٹھ کرآہ و بکاہ کرنے لگتا ہے اور کہتا ہےہاے افسوس آدم کی اولاد کو سجدہ کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا اور جنت کی مستحق ہو گئ اور  مجھے سجدے کاا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کردیااور میں نار جہنم کا مستحق ہوا
سجدہ  تلاوت کے مقامات
قرآن پاک میں ایسی آیتیں جن کے پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے  کل چودہ ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے
سورہ الاعراف آیت 206 ۔
بلا شبہ جو فرشتے آپ کے رب کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائ کے غرور میں آکر اس کی زندگی بجا لانے سے منہ نہیں موڑتےوہ ان کی پاکی بیان کرتے ہیں ا ور اس کے آگے سجدہ ریز رہتے ہیں
سورہ الرعد آیت 15
اور وہ اللہ ہی ہیں جس کو آسمان وں اور زمین کی ہر چیز چارو ناچار سجدہ کر رہی ہیں اور ان چیزوں کے ساے صبع شام اس کے آگے جھکتے ہیں،
سورہ النحل آیت 49 50
اور اللہ ہی کے حضور سجدہ ریز ہیں آسمانوں اورزمین کے سارے جاندار اور فرشتےاور وہ ہرگز اس کی بند گی سے سرتا بی نہیں کرتے  وہ اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہیں ڈرتے رہتے ہیں ا ور وہی کچھ کرتے ہیں جن کا انہیں حکم دیا گیا ہے
سورہ بنی اسرائیل آیت 109
اور وہ قرآن سنتے ہوے منہ کے بل گر جاتے ہیں اور ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہیں
سورہ مریم آیت 58
جب ان کو رحمن کی آیتیں پڑھ کر سنائ جاتیں تو وہ روتے ہوے سجدے میں گر جاتے،
سورہ حج آیت 18
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے حضور وہ ساری مخلوق سر بسجود ہے جو آسمانوں میں ہیں اور اور زمین میں ہیں ا ور سورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان اور بہت سے وہ لوگ ہیں جن پر خدا کا عذاب لازم ہو چکا ہے اور جس کو خدا ذلیل کر دے اس کو پھر کوئ عزت دینے والا نہیں بے شک اللہ جو چاہتا ہےکرتا ہے
سورہ الفرقان آیت 60 
اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اس رحمن کو سجدہ کرو تو جواب دیتے ہیں یہ رحمن کیا ہوتا ہے کیا بس جسے تم کہہ دواسی کو ہم سجدے کرنے لگ جائیں اور دعوت ان کی نفرت اور بیزاری میں الٹا اور اضافہ کر دیتی ہے
سورہ النمل آیت 25 26
کہ وہ اس اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور  زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے  اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو اللہ جس کے سوا کوئ عبادت کا مستحق نہیں جو عرش عظیم کا مالک ہے
سورہ السجدہ آیت 15
ہماری آیات پر تو صرف وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں یہ آیتیں سنا کر جب یاد دہانی کرائ جاتی ہے تو سجدہ میں گر جاتے ہیں اور اپنے رب کی حمد اور تسبیح کرتے ہیں اور غرور میں آکر اس کی سر تابی نہیں کرتے  
سورہ ص آیت 24 25
اور داود علیہ السلام سجدہ میں گر گےء اور رجوع کر لیا اور تب ہم نے انکا وہ قصور معاف کر دیا اور یقینا ہمارے ہاں ان کے تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے
سورہ النجم آیت 62
 پس سجدہ کرو واسطے اللہ تعالی کے اور اسی کی عبادت کرو
سورہ انشقاق آیت 20 21
 تو ان لوگوں کو کیا ہوا ایمان نہیں لاتے اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے
سورہ العلق آیت 19
اور سجدہ کرو اور خدا کا قرب حاصل کرو ۔
سورہ حم السجدہ آیت 38
اگر یہ لوگ دین س ے بے نیازی دکھائیں تو کوئ پرواہ نہیں جو فرشتے آپ کے رب کے حضور مقرب ہیں وہ سب وروز اسکی تسبیح میں لگے ہوے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے،


Thursday, 30 November 2017

نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا منع ہے

نماز میں جمائ لینے سے حتی الوسع پرہیز کرنا چاہیے

نما ز میں نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانا منع ہے

نماز میں انگلیاں چٹخانا یا انگلیوں میں انگلیاں ڈالنا منع ہے

نماز میں منہ ڈھانپنا منع ہے

نماز میں کپڑا دونوں کندھوں پر اس طرح لٹکانا تاکہ اس کے دونوں سرے زمین پر ہو  سدل کہلاتاہے جو کہ منع ہے

نماز میں کپڑے سمیٹنا یا بال درست کرنا یا بالوں کا جو ڑا بنانا نیز بلا عذ ر کوئ بھی حرکت کرنا منع ہے

سجدہ کی جگہ سے بار بار کنکریاں ہٹانا منع ہے

نما ز میں ادھر ادھر دیکھنا منع ہے

تکیہ پر سجدہ کرنا یا گدیلے پر نماز پڑھنا منع ہے

اشارے کی نماز میں سجدے کے لیے سر کورکوع کی نسبت زیادہ جھکانا چاہیے


نماز میں آنکھیں بند کرنا منع ہے 

Sunday, 7 August 2016


                                                     Surat At Tin

Friday, 1 July 2016

ر و ز ہ کے دو رکن ہے 

طلو ع فجر سے غر و ب آفتا ب تک  رو ز ہ تو ڑ نے و ا لی چیز و ں  سے

ر سو ل اکر صلی اللہ علیہ والہ وسلم  کا ار شا د ہے اعما ل کا  د ا ر و مد ا ر 

نیت پر ہے  ا و ر ہر آ د می کو وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت کر ے نیت فجرسے 

پہلے ہی کر لینی چا ہیے نیت دل سے کی جا تی ہے  زبا ن سے ا دا کر نا ضر و 

ر ی نہین مر د اگر عا قل و با لغ ہے تو اس پر رو ز ہ فر ض ہے  عو ر ت کے 

لیے ا ن شر ا یط کے علا وہ اسے حیض و نفا س سے بھی پا ک ہو نا چاہیے

بو رھے مر د  ا و ر بو ڑھی عو ر ت  او ر مر یض کے لیے ر و ز ہ ضر ر ی 

نہیں ان پر ہر ر و ز ہ کے بد لے فدیہ و ا جب ہے  فد یہ ر و ز ا نہ ایک مسکین

  کی خو را ک ہے

مسا فر مریض ا و ر دو دھ پلا نے و ا لی عو ر ت حیض ا و ر نفا س و ا لی عو 

ر ت  ر و ز ہ نہ رکھے  او ر بعد میں اس کی قضا ء کرے 

عید الفطر ا و ر عید الا ضحی  کے دن ر و ز ہ رکھنا منع ہے  ا یا م تشر یق  

یعنی گیا ر ہ با ر ہ تیر ہ ذی ا لحجہ کو  ر و ز ہ رکھنا حر ا م ہے خو ہ نفلی رو 

زہ ہو یا فر ض یہ کھا نے پینے ا و ر ذ کر الہی کے دن ہے

عو ر ت اپنے شو ہر کی اجا زت کے بغیر نفلی ر و ز ہ نہ رکھے  شک کے دن 

رو ز ہ رکھنا حر ا م ہے  رو زا نہ بلا نا غہ ر و ز ہ ر کھنا ممنو ع ہے افضل یہ 

ہے کہ ایک دن چھوڑ کر دو سر ے دن  رو زہ رکھے

نفلی رو زے  شوا ل کے چھ ر و ز ے  رسو لاللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر 

ما یا  جس نے رمضا ن کے سب ر و ز ے رکھے  پھر شو ا ل کے چھ ر و ز ے 

رکھے  اس نے گو یا پو رے سا ل کے ر و ز ے رکھے

عا شو ر ہ کا روز ہ ۔ محرم کی د سو یں  تا ریخ کو ایک دن آگے یا بعد میں ملا 

کر  عا شو ر ہ کی نیت سے ر و ز ہ رکھنا  شعبا ن میں کثر ت سے ر و ز ہ  رکھنا 

  حضرت عا یشہ رضی اللہ عنہا فر ما تی ہے  کہ میں نے رسو ل اکر م صلی اللہ 

علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے  کہ رمضا ن کے  علا وہ سب سے زیادہ شعبا ن کے 

مہینے میں رو ز ہ رکھتے تھے

نفلی ر و زہ شر و ع کر کے تو ڑ دینا جا ئز ہے

زالحجہ کے عشر ہ اول کے نو رو زے غیر حا جیو ں کے لیے
  
ا یا م بیض کے رو زے ۔ حضرت ابو ذ ر غفا ری فر ما تے ہے  کہ رسو ل اکرم 

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا  کہ ہر مہینے کے تین د ن یعنی تیر ہ چو د ہ 

پند ر ہ کو رو ز ہ رکھیں او ر فر ما یا یہ ز ند گی بھر  رو زہ رکھنے کے برا بر ہیں