Monday, 15 February 2016

 اللہ کے کرم کے واقعات
اللہ سبحانہ تعالی بہت رحیم و کریم ہے بعض دفعہ وہ معمولی عمل پر بخش دیتے ہے
ایک دفعہ بہت گنگار فاحشہ عورت سفر پر جا رہی تھی راستے میں ایک کنویں کے قریب پیاسے کتے کو دیکھا اپنے دوپٹے کے ساتھ جوتا با ندھ کر پا نی نکالا اور اسے پلایا اللہ نے اس عمل پر بخش دیا
ایک دفعہ ہلغ کا ظالم بادشاہ سفر پر جا رہا تھا اس ایک خارشی بیمار کتے کو دیکھا جو سردی سے کانپ رہا تھا ترس آگیا نوکروں کو حکم دیا کہ اس کو اٹھا کر لے چلو گھر میں ں اس کا علاج کیا گرمی پہنچائی خواب میں اس نے دیکھا کہ اللہ میاں کہ رہے ہیں ہمارے نزدیک تا کتا تھا یعنی کتوں والے عمل کرتا تھا ہم نے ایک کتا تجھے دیا جس پر ہم نے تیری بخشش کر دی
ایک بہت گناہگار آدمی تھا مرتے وقت اپنے بیٹوں کو نصیحت کی کہ میرے جسم کو جلا کر راکھ بنا کر پانی میں ،ہوا میں اور جنگل میں اڑا دینا بیٹوں نے ایسا ہی کیا  اللہ قادر ہے اس نے ذروں کو زندہ کیا اور اپنے سامنے کھڑا کیا پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا اسنے جواب دیا اے اللہ آپ کے ڈر سے اللہ نے فرماییا جا میں نے بخش دیا
قیامت کے دن اللہ پاک دو شخصوں کو حکم دیں گے جاو جہنم میں ایک دوڑ لگا دے گا دوسرا پیچھے مڑ مڑ کر دیکھے گا اللہ پاک دونوں کو واپس بلاے گے اور پوچھیں تم کیوں دوڑے اس نے کہا اے اللہ دنیا میں تیری نا فرمانی کی خیال کیا کہ آج تو جلدی سے حکم پورا کر دوں۔ دوسرا کہے گا اے اللہ میں نے دنیا میں تیری رحمت کے متعلق سنا تھا تومیں آپکی رحمت کے متعلق دیکھ رہا تھا اللہ فرماےگے جاو دونوں جنت میں
قیامت کے دن ایک شخصکی ایک نیکی کم ہوجاےگی اللہ فرماےگے جا و نیکی لاو ورنہ جہنم میں جاو وہ میدان حشر پھرے گا ۔ تمام رشتہ داروں کو اپنی محبت جتلاے گا کوئی ایک نیکی نہ دے گا سب کہیں گے ہمیں اپنی فکر ہے آخر ایک شخص ملے گا اس کے پاس صرف ایک نیکی ہوگی وہ کہے گا آپ کی ایک کم ہے میرے پاس ہے ہی ایک جاو لے جاو  تاکہ آپکا کام ہو جاے  اللہ پاک نیکی کرنے والے کو بلائینگے تو مجھ سے بھی زیادہ سخی بنتاہے جاو دونوں جنت میں
قیامت کے روز ایک شخص ہوگا جس کے ننا نوے دفتر گنا ہوں سے بھرے ہوئے ہونگے  کسی گناہ کا انکار نہیں کر سکے گا  اللہ کہےگے تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے جا اس کو تلوالے کاغز کا ایک ٹکڑا جس پر کلمہ لکھا ہوگا وہ وزنی نکلے گا
اللہ پاک کا موسی علیہ لسلام کو فرمانا کہ اگر فرعون معافی مانگتا تو میں اسے ضرور معاف کر دیتا
ایک بدو کا اللہ کا تعریف کرنا کہ میں تیری کنگھی کرتا تیری خدمت کرتا وغیرہ موسی علیہ اسلام ناراض ہو گئے  اللہ پاک نے فرمایا تونے ہمارے بندے کو خاموش کرادیا وہ جیسے کیسے تھا میری یاد کر رہا تھا حضرت موسی علیہا  لسلا م نے واپس آکر اس کو راضی کیا وہ پھر اللہ کو یاد کرنے لگا

ایک ظلم آدمی نے 99 قتل کیئے ایک پادری کے پاس گیا اور پھوچھا کیا میری بخشش ہو سکتی ہیں اس نے کہا نہیں ظالم نے اس کو بھی قتل کر دیا 100 پورے کر دیئے ایک دوسرے علم کے پاس گیا اسنے کہا ہاں تیری بخشش ہو سکتی ہیں اللہ بہت رحیم ہے جاو فلاں بستی میں چلے جاو راستے میں مرگیا جنت اور جہنم کے دونوں فرشتے لینے آئے۔ فاصلہ ناپا بستی کی طرف فاصلہ کم نکلااور جنت کے فرشتے اسے لے گے 

Friday, 12 February 2016

ظہار 

                                                                               ظہاراگر کوئ شخص  اپنی بیوی کویہ کہ دے کہ تو میرےلیے 


میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے 


تو اس کی بیوی اسپر اس وقت تک کے لیے حرام ہو جاے گی جب تک کہ وہ اس کے لیے کفارہ نہ ادا کرے


ظہار کا کفارہ یہ ہے کہ شوہر یا تو دو ماہ روزہ رکھے یاایک غلام آزاد کرے یا ساٹھ مسکین کو کھانا کھلاے




ظہار طلاق نہیں ہے بلکہ کفارہ ادا کرنے تک عورت مرد پرحرام ہو جاتی ہے ظہار کرنے والے پر کفارہ واجب ہے اسکے



بغیر عورت حلال نہیں ہوتی



ظہار کرنا فعل حرام ہے اس لیے کہ بیوی کو ماں کہنا ماں اور بیوی کی حرمت کو تارتار کرنا ہے قرآن نے اس کو ناگوار اور


 جھوٹی بات کہا ہے





Monday, 8 February 2016



مسلمان،یہودی ستارہ پرست اور نصرانی کوئی بھی ہو جو 

بھی قیامت اور اللہ تعالی پر ایما ن لا ئےنیک عمل کرے وہ محض 

 بے خوف رہے گا اور بالکل بے غم ہوجائے گا  سورہ المائدہ آیت 69

مسلمان ہو یہودی ہو نصارہ ہو یا صابی ہو جو کوئ بھی اللہ 

تعالی پر اور یوم آخرت پر ایمان لائےاور نیک عمل کرےان کے 

اجر ان کے رب کے پاس ہے ان پر نہ تو کوئی خوف ہوگااور نہ اداسی


سورہ البقرہ آیت 62 

Tuesday, 26 January 2016

 حج کی فرضیت کی شرائط

جب کسی کےلیے حسب ذیل شرطیں پوری ہو جائیں تو اس پر حج فرض ہو جاتا 
ہے آدمی بالغ ہو

آدمی مسلماں ہوراستہ پر امن ہوآمد ورفت کے لیےزاد راہ اورسواری اور سفر 

حج کی مدت تک کےلیے اخراجات وکا انتظام ہو عورت کے لیے محرم یا شوہر 
کا ساتھ ہو

آزادی یعنی حاجی سفر کے لیے پوری طرح تیار ہوبا اختیار

 ہو  غلا م اور بھاگے ہوے قیدی پر حج فرض نہیں حج کے 

نام پر چندہ جمع کرکے یاقرض لے 

کر حج کرنا فرض نہیں

حج کے ارکان

 احرام  ۔وقوف عرفہ  ۔طواف

صفا مروہ کی سعی ۔ ان ؐیں سے کسی کے چھو ٹنے سے حج

 پورا نہیں ہوتا

حج کے واجبات چھ ہیں

میقات سے احرام باندھنا

غروب آفتاب تک عرفہ میں قیام کرنا

مزدلفہ میں رات گزارنا

ایام تشریق کی راتوں کو منی میں گزارنا

جمرات کو کنکریاں مارنا

سر منڈوانا

ان سب میں سب سے اہم عرفہ کی حا ضری ہےجو کسی وجہ

 سےعرفات میں حاضر نہ ہو سکا اسکا حج نہیں


Saturday, 16 January 2016

جرائم اور سزا
حسب ل جرائم پر شریعت نے حدود یعنی سزائیں مقرر کی ہیں جن کو نافذ کرنے میں ذرا بھی نرمی نہیں کرنی چاہیے تاکہ انذی جرائم کو معاشرے میں  پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملے
شراب ۔عربی میں اس کو خمر کہتے ہیں جس کے استعمال سے عقل و ہوش بےکار ہو جائیں اللہ نے شراب کو رجس نا پاکی اور عمل شیطان کہا گیا ہے شراب صرف پینے ہی کی چیز کو نہیں کہتے بلکہ جس چیز کے کھانے سے نشہ پیدا ہو وہ شراب ہے آنحضرت صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہےہر نشہ آور چیز جوبڑی
مقدار
رپینے سے نشہ پیدا کرتی ہےاس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہےترمذی
آنحضرت صلی ا للہ  علہ وآلہ وسلم کا حکم ہے اللہ نے شرا  ب کو حرام کردیاہے  جس کو یہ قرآنی حکم پہنچے اور اس کے پاس شراب ہوتووہ اسےنہ  پیے اور نہ فروخت کرے
شراب کا ہدیہ میں دینا حرام ہےایک شخس نے چاہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شراب ہدیہ پیش کرے  آپ نے فرمایا اللہ نے شراب حرام کردی ہے اس نے پوچھا تب میں اسے فروخت کردو  آپ نے فرمایا اللہ نے جب اسے پینا حرام کیاہے تو اسے بیچنا بھی حرام قرار دیا ہے اس نے کہا اسکو یہودیوں کو دے دوں۔ آپ نے فرمایا اللہ نے اس کو ہدیہ میں
دینا بھی حرام کیا ہے  کہا پھر کیا کروں آپ نے فرمایا ۔ مدینہ کی نالیوں میں بہادو۔ مسند حمیدی
شراب کی مجلسوں کا بائیکاٹحضرت عمر رضی اللہ تعالی کی روایت ہے کہآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا جو    
   
شخص اللہ اور رسول اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہواسے چاہیے کہ ا یسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب پی جارہی ہو
مسند احمد
شراب کودوا کے لیے استعمال کرنا حرام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ نے اپنی حرام کردہ چیزوں میں تہہارے لیے شفا نہیں رکھی ہے بخاری
شراب لعنتی چیز ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےآنحضرت صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم نےشراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت کی ہےشراب نچوڑنے والے پر اس اس کو نچڑوانے پراور شراب پینے والے پرشراب اٹھانے والے پر جس کے پاس شراب لیجائ جاے اسکو پلانے والے پر اسکو بیچنے والے پر اسکی قیمت کھانے والے پر اسکو خریدنے والے پر جس کے لیے خریدی گئ ہواسپر ترمذی ابن ماجہ نشہ آور چیزیں شیش
گانجا
کوکین
افیون
گرد
یہ سارے مختلف نام جن سے نشہ آور چیزیں مشہور ہے سب شراب کے حکم میں ہیں اور سب حرام ہیں ان کی تجارت حرام ہے ان کی زراعت حرام ہے  شرابی کو بعد ثبوت واقرار صحت مند نو جوان کو80 کوڑے مارے جاےاور بوڑھے کمزور کو 40 کوڑے مارے جائیں 


Wednesday, 2 December 2015

لواطت
لواطت غلام بازی
بد ترین جراءم میں سر فہرست ہے
لواطت اخلاق اور فطرت کے ساتھ بغاوت ہے
اسی لیے اللہ نے اس کی سزا بھی سب سے بد ترین دی ہے
اور اس گھناونے مرض میں مبتلا قوم کو صفحہ ہستی سے نا پید کر کے رہتی دنیا تک کےلیے اس بے ھیا مرض کو اس قوم کے نام سے  مشہور کر دیا
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے
اگر کسی کو قوم لوط کی حرکت کرتے دیکھو تو کرنے اور کروانے والے دونوں کو قتل کر دو
آپ نے تین بار لوطی پر لعنت فرمائ
اس شخص پر خدا کی لعنت ہوجو قوم لوطکی حرکت کرے
اس شخص پر خدا کی لعنت ہو جو قوم لوط کی حرکت کرے ۔ 

Friday, 27 November 2015

سنتیں اور نوافل

  • رسول پاک صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم جو نفل نماز با قا عد گی سے ادا فرماتے تھے وہی امت کے لیے سنت موکدہ ہے
  • نماز ظہر سے قبل چار بعد میں دونماز مغرب کے بعد دو نماز عشاء کے بعد دواور نمازفجرسے قبل دو کل بارہ رکعتیں پڑھنا مسنون ہیں
  • سنتیں اور نوافل گھر میں ادا کرے افضل ہیں قیام الیل میں آپ صلیا للہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز 9 رکعت مع وتر ہوتی
  • نماز طہر سے قبل دو سنتیں ادا کرنا سنت سے ثابت ہے 
  •  سنتیں اور نوافل دو دو کر کے ادا کرنے چاہئیں فجر کی سنتوں کے بعد تھوڑی دیر دائیں کروٹ لیٹنا سنت ہے
  • نماز جمعہ کے بعد چار یا دو رکعتیں پڑھنی مسنون ہیں
  • نماز فجر کی پہلی دو سنتیں اگر فرضوں سے پہلے نہ پڑھی جاسکے تو فرضوں کے فورا بعد یا سو رج نکلنے کے بعددونوں طرح ادا کرنا جائز ہے
  • نماز ظہر کی پہلی چار سنتں فرضوں سے پہلے نہ پڑھی جا سکے تو فرضوں کے بعد پڑھی جا سکتی ہیں
  • عصر سے قبل دو یا چار رکعت سنت غیر موکدہ ہیں
  • نماز عشاء کے بعد دو رکعت سنت موکدہ ہیں
  • نماز جمعہ سے قبل سنت موکدہ ادا کرنا حدیث سے ثابت نہیں
  • نماز وتر کے بعد بیٹھ کر دونفل پڑھنے سنت سے ثابت نہیں
  • فرض ادا کرنے کے بعد سنتیں ادا کرنے کے لیے جگہ بدلنی چاہئے تاکہ فرض نماز اور سنت میں فرق ہو سکے
  • بلا عذر بیٹھ کر نماز پڑھنے سے آدھا ثواب ملتا ہے
  • سنتیں اور نوافل سواری پر بیٹھ کر ادا کئے جاسکتے ہیں
  • نماز شروع کرنے سے قبل سواری کا رخ قبلہ کیطرف کر لینا چاہئے بعد میں خواہ کسی طرف ہو جائے
  • سنتوں اور نوفل میں قرآن کریم سے دیکھ کر تلاوت کرنا جائز ہے
  • نوا فل میں طویل قیام پسندیدہ ہے
  • نیند کے غلبہ کی وجہ سے رات کی نماز یا کوئی دوسرا معمولی وظیفہ رہ گیا ہو تو فجر اور ظہر کے بعد ادا کیا جا سکتا ہے
  • کسی عذر کی بناء پرنفل نماز کچھ بیٹھ کر  کچھ کھڑے ہو کر ادا کی جا سکتی ہے
  • سنت اور نفل نماز گھر میں ادا کرنی افضل ہے
  • نفل عباد ت جو ہمیشہ کی جائے پسندیدہ ہے خواء کم ہی ہو
  • دوران سفر سنتیں اور نوافل معاف ہیں
  • نماز فجر اورنماز عصر کے بعد فرض نماز پڑھی جاسکتی ہیں
  • نماز فجر کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئ نفل نماز ادا نہیں کرنی چاہئے