Tuesday, 26 January 2016

 حج کی فرضیت کی شرائط

جب کسی کےلیے حسب ذیل شرطیں پوری ہو جائیں تو اس پر حج فرض ہو جاتا 
ہے آدمی بالغ ہو

آدمی مسلماں ہوراستہ پر امن ہوآمد ورفت کے لیےزاد راہ اورسواری اور سفر 

حج کی مدت تک کےلیے اخراجات وکا انتظام ہو عورت کے لیے محرم یا شوہر 
کا ساتھ ہو

آزادی یعنی حاجی سفر کے لیے پوری طرح تیار ہوبا اختیار

 ہو  غلا م اور بھاگے ہوے قیدی پر حج فرض نہیں حج کے 

نام پر چندہ جمع کرکے یاقرض لے 

کر حج کرنا فرض نہیں

حج کے ارکان

 احرام  ۔وقوف عرفہ  ۔طواف

صفا مروہ کی سعی ۔ ان ؐیں سے کسی کے چھو ٹنے سے حج

 پورا نہیں ہوتا

حج کے واجبات چھ ہیں

میقات سے احرام باندھنا

غروب آفتاب تک عرفہ میں قیام کرنا

مزدلفہ میں رات گزارنا

ایام تشریق کی راتوں کو منی میں گزارنا

جمرات کو کنکریاں مارنا

سر منڈوانا

ان سب میں سب سے اہم عرفہ کی حا ضری ہےجو کسی وجہ

 سےعرفات میں حاضر نہ ہو سکا اسکا حج نہیں


Saturday, 16 January 2016

جرائم اور سزا
حسب ل جرائم پر شریعت نے حدود یعنی سزائیں مقرر کی ہیں جن کو نافذ کرنے میں ذرا بھی نرمی نہیں کرنی چاہیے تاکہ انذی جرائم کو معاشرے میں  پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملے
شراب ۔عربی میں اس کو خمر کہتے ہیں جس کے استعمال سے عقل و ہوش بےکار ہو جائیں اللہ نے شراب کو رجس نا پاکی اور عمل شیطان کہا گیا ہے شراب صرف پینے ہی کی چیز کو نہیں کہتے بلکہ جس چیز کے کھانے سے نشہ پیدا ہو وہ شراب ہے آنحضرت صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر شراب حرام ہےہر نشہ آور چیز جوبڑی
مقدار
رپینے سے نشہ پیدا کرتی ہےاس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہےترمذی
آنحضرت صلی ا للہ  علہ وآلہ وسلم کا حکم ہے اللہ نے شرا  ب کو حرام کردیاہے  جس کو یہ قرآنی حکم پہنچے اور اس کے پاس شراب ہوتووہ اسےنہ  پیے اور نہ فروخت کرے
شراب کا ہدیہ میں دینا حرام ہےایک شخس نے چاہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شراب ہدیہ پیش کرے  آپ نے فرمایا اللہ نے شراب حرام کردی ہے اس نے پوچھا تب میں اسے فروخت کردو  آپ نے فرمایا اللہ نے جب اسے پینا حرام کیاہے تو اسے بیچنا بھی حرام قرار دیا ہے اس نے کہا اسکو یہودیوں کو دے دوں۔ آپ نے فرمایا اللہ نے اس کو ہدیہ میں
دینا بھی حرام کیا ہے  کہا پھر کیا کروں آپ نے فرمایا ۔ مدینہ کی نالیوں میں بہادو۔ مسند حمیدی
شراب کی مجلسوں کا بائیکاٹحضرت عمر رضی اللہ تعالی کی روایت ہے کہآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا جو    
   
شخص اللہ اور رسول اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہواسے چاہیے کہ ا یسے دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب پی جارہی ہو
مسند احمد
شراب کودوا کے لیے استعمال کرنا حرام ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ نے اپنی حرام کردہ چیزوں میں تہہارے لیے شفا نہیں رکھی ہے بخاری
شراب لعنتی چیز ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےآنحضرت صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم نےشراب کے بارے میں دس آدمیوں پر لعنت کی ہےشراب نچوڑنے والے پر اس اس کو نچڑوانے پراور شراب پینے والے پرشراب اٹھانے والے پر جس کے پاس شراب لیجائ جاے اسکو پلانے والے پر اسکو بیچنے والے پر اسکی قیمت کھانے والے پر اسکو خریدنے والے پر جس کے لیے خریدی گئ ہواسپر ترمذی ابن ماجہ نشہ آور چیزیں شیش
گانجا
کوکین
افیون
گرد
یہ سارے مختلف نام جن سے نشہ آور چیزیں مشہور ہے سب شراب کے حکم میں ہیں اور سب حرام ہیں ان کی تجارت حرام ہے ان کی زراعت حرام ہے  شرابی کو بعد ثبوت واقرار صحت مند نو جوان کو80 کوڑے مارے جاےاور بوڑھے کمزور کو 40 کوڑے مارے جائیں 


Wednesday, 2 December 2015

لواطت
لواطت غلام بازی
بد ترین جراءم میں سر فہرست ہے
لواطت اخلاق اور فطرت کے ساتھ بغاوت ہے
اسی لیے اللہ نے اس کی سزا بھی سب سے بد ترین دی ہے
اور اس گھناونے مرض میں مبتلا قوم کو صفحہ ہستی سے نا پید کر کے رہتی دنیا تک کےلیے اس بے ھیا مرض کو اس قوم کے نام سے  مشہور کر دیا
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے
اگر کسی کو قوم لوط کی حرکت کرتے دیکھو تو کرنے اور کروانے والے دونوں کو قتل کر دو
آپ نے تین بار لوطی پر لعنت فرمائ
اس شخص پر خدا کی لعنت ہوجو قوم لوطکی حرکت کرے
اس شخص پر خدا کی لعنت ہو جو قوم لوط کی حرکت کرے ۔ 

Friday, 27 November 2015

سنتیں اور نوافل

  • رسول پاک صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم جو نفل نماز با قا عد گی سے ادا فرماتے تھے وہی امت کے لیے سنت موکدہ ہے
  • نماز ظہر سے قبل چار بعد میں دونماز مغرب کے بعد دو نماز عشاء کے بعد دواور نمازفجرسے قبل دو کل بارہ رکعتیں پڑھنا مسنون ہیں
  • سنتیں اور نوافل گھر میں ادا کرے افضل ہیں قیام الیل میں آپ صلیا للہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز 9 رکعت مع وتر ہوتی
  • نماز طہر سے قبل دو سنتیں ادا کرنا سنت سے ثابت ہے 
  •  سنتیں اور نوافل دو دو کر کے ادا کرنے چاہئیں فجر کی سنتوں کے بعد تھوڑی دیر دائیں کروٹ لیٹنا سنت ہے
  • نماز جمعہ کے بعد چار یا دو رکعتیں پڑھنی مسنون ہیں
  • نماز فجر کی پہلی دو سنتیں اگر فرضوں سے پہلے نہ پڑھی جاسکے تو فرضوں کے فورا بعد یا سو رج نکلنے کے بعددونوں طرح ادا کرنا جائز ہے
  • نماز ظہر کی پہلی چار سنتں فرضوں سے پہلے نہ پڑھی جا سکے تو فرضوں کے بعد پڑھی جا سکتی ہیں
  • عصر سے قبل دو یا چار رکعت سنت غیر موکدہ ہیں
  • نماز عشاء کے بعد دو رکعت سنت موکدہ ہیں
  • نماز جمعہ سے قبل سنت موکدہ ادا کرنا حدیث سے ثابت نہیں
  • نماز وتر کے بعد بیٹھ کر دونفل پڑھنے سنت سے ثابت نہیں
  • فرض ادا کرنے کے بعد سنتیں ادا کرنے کے لیے جگہ بدلنی چاہئے تاکہ فرض نماز اور سنت میں فرق ہو سکے
  • بلا عذر بیٹھ کر نماز پڑھنے سے آدھا ثواب ملتا ہے
  • سنتیں اور نوافل سواری پر بیٹھ کر ادا کئے جاسکتے ہیں
  • نماز شروع کرنے سے قبل سواری کا رخ قبلہ کیطرف کر لینا چاہئے بعد میں خواہ کسی طرف ہو جائے
  • سنتوں اور نوفل میں قرآن کریم سے دیکھ کر تلاوت کرنا جائز ہے
  • نوا فل میں طویل قیام پسندیدہ ہے
  • نیند کے غلبہ کی وجہ سے رات کی نماز یا کوئی دوسرا معمولی وظیفہ رہ گیا ہو تو فجر اور ظہر کے بعد ادا کیا جا سکتا ہے
  • کسی عذر کی بناء پرنفل نماز کچھ بیٹھ کر  کچھ کھڑے ہو کر ادا کی جا سکتی ہے
  • سنت اور نفل نماز گھر میں ادا کرنی افضل ہے
  • نفل عباد ت جو ہمیشہ کی جائے پسندیدہ ہے خواء کم ہی ہو
  • دوران سفر سنتیں اور نوافل معاف ہیں
  • نماز فجر اورنماز عصر کے بعد فرض نماز پڑھی جاسکتی ہیں
  • نماز فجر کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے تک کوئ نفل نماز ادا نہیں کرنی چاہئے


Wednesday, 7 October 2015

جن لو گوں کو ز کو ۃ دی جا سکتی ہے       

  سو ر ہ تو بہ کی رو شنی میں جن لو گو ں کو ز کو ۃ دی جا سکتی ہے  وہ آ د می جو اپنی ر و ز ی خو د نہیں کما سکتا بلکہ اپنی ضر ر یا ت میں دو سر و ں کا محتا ج ہے

       و ہ کا م کر نے وا لا شخص جو محنت کر نے بکے با و جو د اپنی ضر و ریا ت پو ر ی کر نے میں دو سر وں کا

     محتا ج ہو  جو ز کو ۃ کے جمع  تقسیم کے ا دا رے میں کسی خد مت پر ما مو ر ہو

      و ہ لو گ جنہیں اسلا م پر قا ئم رہنے او ر ثا بت قد میکے لیے مد د کی جا ئے  ز کو ۃ کے ما ل سے ا ں کی دل جو ئ  شر عا ا ن کا حق ہے

     غلا م او ر لو نڈ ی آ زا د کر ا نا چو نکہ اب غلا م ا و ر لو ند ی کا ر وا ج دنیا ختم ہو چکا ہے  اس لیے آ ج یہ رقم  ان مظلو مو ں پر خر چ کی جا سکتی ہے جو مسلما ن ہو نے کے سبب ا سلا م، د شمن  طا قتو ں کا شکا ر ہو کر جیل کی سز ا کا ٹ رہتے ہو  ان کو  ر ہا کر ا نےکے سا تھ سا تھ  ا ن کے با ل بچو ں کی خبر گیر ی بھی کر نی چا ہیے  ا و ر ان کے مقد ما ت کی پیر وی بھی کی  جا ے

      وہ قرضد ا ر جو ذ ا تی  یا قو می قر ضو ں کے بو جھ تلے د با ہو ا ہو
   اسلام کی سر بلند ی اور حفا ظت کے کے لیے راہ آلہی میں جہا د کر نے وا لو ں پر ز کو ۃ خر چ کی جا ے  

      نیز عا م ملی مسا لح ا و ر رفا ہ عا مہ کے کا مو ں پر بھی خر چ کی جا سکتی ہے

     مسا فر خو اہ غنی کیو ں نہ ہو سفر میں اپنی ضرو ریا ت سفر کے لیے اگر محتا ج ہو گیا ہو تو بیت الما ل سے اس کی مد د کی جا سکتی ہے 

ان تما م مصا ر ف میں ز کو ۃ حسب ضرو رت ز کو ۃ تقسیم کر نی چا ہیے  جو 

مصر ف زیا دہ محتا ج ہو اس پر زیا دہ خر چ کر نا چا ہیے  ایسا نہیں کر نا چا 

ہیے کہ صر ف ایک ہی مصر ف پر سا ر ی ز کو ۃ خر چ کر دی جا ے  ا و ر 


دوسرے مسا ر ف کو نظر اندا ز کر دیا جا ے


Sunday, 13 September 2015


اما مت

نا بینا آ د می بلا کرا ہت اما مت کرا سکتا ہے 

جو پہلے سے مقر ر اما م ہے اس کی اجا زت کے بغیر  مہما 

ن اما مت نہیں کرا سکتا

سب سے زیا د ہ قرآ ن کا جا ن نے وا لاسب سے زیا د ہ سنت 

کا جا ننے وا لا

ہجر ت میں پہل کر نے وا لا  پھر سب سے زیا دہ عمر وا لا 

اما مت کا زیا دہ حقد ا ر ہے

مسا فر مقیم کی اما مت کرا سکتا ہے  

عو رت عو رتو ں کی اما مت کر ا سکتی ہے

عو ر ت کو اما مت کرا تے وقت پہلی صف کے اند ر  د ر 

میا ن میں کھڑا ہو نا چا ہیے

اما م کو ہلکی نما ز پڑھا نی چا ہیے

اما م کو جمعہ کا خطبہ عام خطبو ں کی نسبت  مختصر اور 
نما ز عا م نما زو ں کی نسبت طویل پڑھا نی چا ہیے

اما م ا ور مقتدی  کی نیت جدا جدا ہونے سے نما ز  میں کو 

ئ فر ق نہیں آ تا

عورت  اکیلی صف میں کھڑ ی ہو سکتی ہے

اگر لوگ امام کو نہین دیکھ سکتے یا کو ئ د یوا ر حا ئل ہو 

تب بھی نماز ہو جا ئیگی
 
دو آدمیوں کی جماعت میں مقتدی دائیں  جا نب کھڑ اہو جب 

تیسرا آدمی آئے تو دو نوں مقتد ی اما م کے پیچھے چلے جا ئے

جس اما م کو لو گ نا پسند کرے اور وہ پھر بھی اما مت کرا 

ئے تو اس کی اما مت مکروہ ہے

اگر چھ سا ت کا بچہ با قی لو گو ں کی نسبت زیا دہ قر آ ن جا 

نتا ہو تو امامت کا زیادہ حقدا ر ہے  



Friday, 11 September 2015

ہر طواف یعنی سات چکر پورے کرنے کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے دو طوافوں کو ملانا اور درمیان میں نماز نہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے 

سات چکر لگالینے کے بعد کسی نے قصدا  آ ٹھواں چکرلگایا تو اب چھ مزید لگا کر ایک اور طواف ضروری نفل عبادت شروع کرنے کے بعد لازم ہوجاتی ہپے 

جن اوقات میں نماز مکروہ ہے ان اوقات میں طواف مکروہ نہیں ہے 

طواف کرتے ہوے اگر پنج وقتہ نمازوں میں سے کسی نماز کا وقت آجاے یا نماز جنازہ آجاے یا وضوکی ضرورت آجاے تو دوبارہ نئے سرے سے طواف شروع کرنے کی ضرورت نہیں جہاں سے چھوڑکر گیا تھا وہیں سے پورا کرے 


طواف کرتے ہوے اگر بھول جاے کہ کتنے چکر کئے ہیں تو پھر نئے سرے سے شروع کرے  ہاں اگر قابل اعتماد  شخص یاد دلادے تو اسکی یاد دہانی کے مطابق عمل کر سکتا ہے 

طواف کے دوران کوئ چیزکھانا پینا خریدو فروخت کرنا شعار گنگنانا اور بے ضرورت باتیں کرنا مکروہ ہے 

حالت طوافمیں نجاست حقیقہ سے پاک ہونا مسنون ہے اور نجاست حکمیہ سے پاک ہوناواجب ہے

حج اور عمرہ کے دونوں کے طواف میں رملکرنا مسنون ہے اور اضطباع بھی مسنون ہے