Thursday, 22 May 2014

میرے  پیارے بہن بھائیوں
کچھ مشکوک عورتیں جو اپنے آپ کو کسی جماعت کا کارکن کہتی ہیں اور کچھ بہت زیادہ پردہ کرنے والی عورتیں  جادو کرتی ہیں اور پاکستان میں مشکوک لوگوں کے ساتھ ان کے تعلقات ہیں جو جادو کرتیں ہیں اور لوگوں کو لوٹتی ہیں ان سے ہوشیار رہیں ایسی گندی عورتوں کو اپنے گھروں میں نہ آنے دے اگر آپ کسی انجانی قسم کی عورت کو ابنے گھر میں بلاتے ہیں تو ان کی تصویر ضرور بنا لے تاکہ بوقت ضرورت آپ کے کام آسکے اور ایسے مشکوک لوگوں سے اچھی طرح جانچ پڑتال کرلیں
اگر آپ کو کوئی فون کر کے کہے کہ آپ کا پرائز بانڈ لگ گیا ہے ایسے لوگ آ پکی سمز کو بلاک کر دیتے ہیں اور آپ کے فون کو مصروف رکھتےہیں تاکہ آپ کسی اور سے بات نہ کرسکے اسی طرح کچھ عورتیں جادو کے ذریعے مال اینٹھتی ہیں ان کو باقاعدہ مرد آپ لوگوں دروازوں تک چھوڑتے ہیں جو لوگوں ے بارے میں انفارمیشن لیتے ہیں اور پھر واردات کرواتے ہیں 

Thursday, 3 April 2014

ا و قا ف کی آ مد نی پر ز کو ۃ


ا و قا ف کی آ مد نی پر ز کو ۃ

ز کو ۃ کی فر ضیت کے لیےذ ا تی ملکیت شر ط ہے ا س لیے

ما ل ا و رجا ئدا د رفا ہ عا مہ کے لیے للہ وقف ہے  مسجد یتیم خا نوں و ر مد ا

 رس کی مو قو فہ جا ئد ا دو کی آمد نی پر ز کو ۃ فر ض نہیں اللہ کا ا ر شا د ہے 

ا لبقر ہ 254

غر یبو ں پر ا س ما ل سے خر چ کر و جو ہم نے تم کو د یا ہے 

البتہ کسی نے ا پنی او لا د کے لیے کو ئ جا ئد ا د وقف کی ہو تو اس پر ز کو ۃ

 فر ض ہے   

حتی کہ یتیمو ںکے ما لو ں پر بھی ز کو ۃ فر ض ہے

حر ا م ما لوں مثلا فلم سینما  سو دی کا رو بار چو ری ڈ کیتی  فحا شی رشو ت  

وغیر ہ  کے ذ  ر یعے حا صل آمد نی پر

ز کو ۃ قبو ل نہیں کی جا تی کیو نکہ یہ حر ا م ما ل ہےاللہ تعا لی کا ار شا د 

ہےالما ئد ہ 27 اللہ متقییوں ہی کے صد قا ت کو قبو ل کر تا ہے  حد یث میں ہے 

اللہ پا کیز ہ ہے پا کیز ہ ہی کو قبو ل کر تا ہے نیز ار شا د ہے  اللہ ما ل خیا نت 

کے صد قہ کو قبو ل نہیں کر تا  قر ض د یے ہو ے ما ل پر  ز کو ۃ نہیں نہ 

دینے 

وا لے پر ا و ر نہ لینے وا لے پر  حضر ت عا ئشہ رضی اللہ  عنہا کا  قو ل ہے  

قر ض پر ز کو ۃ نہیں ہے

پرا وڈ نٹ فنڈ یا بو نس کے ما ل پر اس وقت ز کو ۃ فر ض ہو گی جب وہ قبضہ 

میں آ جا ے  او ر ان پر ایک   سا ل

 گز ر جا ے تجا ر تی ما لو ں

  پر ز کو ۃ فر ض ہے
                                                                                         
اللہ کا ارشاد :

ہے اے ایما ن وا لو ں اپنی  پا کیز ہ کما ئ  میں سے ا و ران چیز و ں میں سے ا 

و ر ان چیز وں میں سےجوہم نے تمھا رے لیے ز میں سے نکا لی ہے  حد یث

 میں ہے حضر ت سمر ہ  بن  جند ب فر ما  تے ہے کہ ر سو ل کریم صلی اللہ 

 علیہ وآلہ وسلم  ہم کو حکم د یتے تھے  کہ ہم ان ما لو ں کی ز کو ۃ  ا دا کریں 
  
جنہیں ہم تجا ر ت کے لیے ر کھتے تھے تجا ر تی ما ل پر ز کو ۃ نکا لنے کا طر 

یقہ یہ ہے کہ سا ل کے آ خر میں اسٹا ک جوڑ کرلین دین وضع کر کے بقیہ میں


 ڈھا ئ فیصد کے لحا ظ سے اس کی قیمت  جو ڑ کر ز کو ۃ دے دی جا ے

کمپنیوں کے حصص یا سرکا ر ی  یا نجی کمپنیوںکے بو نڈ پر ز کو ۃ فر ض نہیں 

جب تک  کہ ان کا نقد حسہ قبضہ میں نہ آ جا ے  یا ان کمپنیو ں

 پر ما لکا نہ تصر ف مکمل حا صل ہو جا ے

Wednesday, 2 April 2014

ز کو ۃ کا بیا ن


   ز کو ۃ کا بیا  ن


سو ر ہ البقر ہ  آ یت 
43
نما  ز د ر ستگی سے ا د ا کر و  ا و ر ز کو ۃ د و  قر ا ن مجید میں 82  با ر ز 

کو  ۃ کا ذ کر آ یا ہے

زکو ۃ ا سلا م کا تیسر ا رکن ہے  ز کو ۃ مد ینہ منو ر ہ میں 2 ہجری میں فر 

ض ہو ئ  ز کو ۃ کے معنی ہے بڑ ھنا  پا کی ا و ر بر کت اس کی فر ضیت  کے با ر 
ے میں  اللہ تعا لی کا ار شا د ہے  او ر آنحضر ت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ار 

شا د ہے اللہ نے مسلما نوں پر زکو ۃ فر ض کی ہے جو ان کے ما لد ا ر و ں 

سے وصو ل کی جا ے گی   او ر ان کے فقیر و ن میں تقسیم کی جا ے گی  اس 

حد یث میں ز کو ۃ کو  صد قہ کہا گیا ہے  جس سے معلو م ہو ا  کہ ز کو ۃ کا د 

و سر ا نا م صد قہ بھی ہے

ز کو ۃ د ینے کے فوا ئد

 اللہ تعا لی صد قہ  و زکو ۃ میں دیے ہو ے ما ل کو بڑ ھا تا ہے

سو رہ البقر ہ آ یا ت 
276

اللہ سو د کو گھٹا تا ہے او ر  ز کو ۃ کو بڑ ھا تا ہے

او ر جو تم زکو ۃ دیتے ہو  اس سے خد ا کی رضا مند ی  طلب کر تے ہو تو وہ 

مو جب بر کت ہے ایسے ہی لو گ اپنے ما ل کو د و چند سہ چند کر نے و ا لے 

ہے  او ر آ نحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم  نے قسم کھا کر فر ما یا

صد قہ دینے سے ما ل گھٹتا نہیں

زکو ۃ اسلا م کا پل ہے  اپنے ما لوں کو زکو ۃ دے کر بچا و

جس ما ل کی ز کو ۃ دی جا ے وہ پا ک و صا ف ہو جا تا ہے


ز کو ۃ دینے و ا لا بخل کی بر ی عا دت سے بچ کر سخا و ت کا عا د ی بن جا تا ہے 

Monday, 31 March 2014



                                                           Surah Al Asr

Monday, 24 February 2014

ڈرون  حملے

آج  پھر ڈرون حملہ ہوا اور بہت سارے لوگ مارے گے

کتنے لوگ تھے کچھ معلوم نہیں کتنے بے گناہ بچے بوڑھے 

عورتیں اور شاید ان کے جانور تک

کھیت وکھلیان اور وہ زمین بھی اس قابل نہیں رہتی جس پر 

بارود کے اثرات ہوں

ان لوگوں کا کیا قصور

ایسا زمانہ بھی آنا تھا کہ مارنے والے کو کچھ پتہ نہ ہو کہ 

وہ کیوں مار رہا ہے اور مرنے والے کو بھی پتہ نہ ہو کہ وہ 

کیوں مارا جا رہاہے

آخر ایسا کیوں جب ایک نوجوان اپنے جسم پر بارود لے کر 

گھوم رہا ہوتاہے تعلیم کی کمی یا انتقام ۔انتقام اس قدر تکلیف 

دہ کہ اپنے آپ کو اور دوسروں کو ختم کرنے کی ٹھان لے 

اس جوان کے دل میں دنیا کی محبت نہیں مستقبل کے خواب 

نہیں اس کے عزیز رشتے دار کسی ڈرون حملے میں مارے 

گے جو اس نے بارود کو اپنے جسم پر لپیٹنے کی ٹھان لی یا 

اسکو کسی نے بہکایا یا پیسے کا لالچ دیا یا اس کو کوئ اپنے 

ناپاک ارادوں کے لیے استعما ل کرنا چاہتا ہے کہیں پس پردہ 

کوئ اور کہانی تو نہیں یا کوئ پاکستانیوں اندرونی اور 

بیرونی طور پر نقصان تو نہیں پہنچانا چاہتاہمیں اپنے لوگوں 

کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے بچانا ہو گا لوگوں کو 

تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہوگا روز گار کے مواقع 

پیدا کرنے ہونگے  صاف پانی مہیا کرنا ہوگی  تفرقہ بازی 

ختم کرنا ہوگی

متحد ہونا ہو گا

سب صوبوں کے حقوق دینا ہونگے                           

جب کوئ جوان اپنے جسم پر بارود نہیں باندھے گا


اچھائ اور برائ میں فرق کرسکے گا اور ملک کی بہنیں 

بیٹیاں بیوہ نہیں ہونگی اور بچے یتیم نہیں ہونگےاور گھروں 

میں چولہا جلے گا اوربچے دو وقت کی روٹی تو کھا سکے 

گے 

Monday, 17 February 2014


اتحا د                          

اتحا دو ا تفا ق جنگ کا مہلک ترین ہتھیا رہے

 مسلما نو ں کی مثا ل ایک عما رت جیسی ہے کہ اس کے  
اجزا دو سر ے کے سا تھ وا بستہ ہے  

سب انسا ن ایک دو سرے کے اعضا ء ہے کیو نکہ پیدا ئش 

میں ان کا جو ہر ایک ہے

جن لو گو ں کے  سا تھ انسا ن کو اکٹھا رہنے کا اتفا ق پڑے 

ان سے کبھی بگا ڑ نا نہیں چا ہیئے

ہمیں ملت بن کر متحد رہنا چا ہیئے

اگر چڑ یاں متحد ہو جاے تو شیر کی کھا ل اتا ر سکتی ہیں


اتفا ق واتحا د سے جو کا م آ سا نی کے سا تھ اور جلد ی سے 

ہو جا تے ہیں وہ تنہا کیے جاے تو بڑی مشکل سے ہو تے ہیں

Sunday, 9 February 2014

جادو کیا ہے

جادو کے لیے عربی زبان  میں سحر کا لفظ استعمال ہوا ہے علماء اس کی تعریف یوں بیاں کرتےہے

سحر وہ عمل ہے جس سے پہلے شیطان کا قرب حاصل کیا جاتا ہے

جادو کی ایک اور تعریف بیا  ن کی جاتی ہے سحر در اصل کسی چیز کو اس کی حقیقت سے پھیر دینے کا نام ہے

کیو نکہ  جادو گر با طل کو حق بنا کر پیش کرتا ہے اور کسی چیز کو اس کی حقیقت سے ہٹا کر سامنے لاتا ہے گو یا وہ اس کو اصل حقیقت سے پھیر دیتا ہے  شمر ابن ابی عائشہ سے بیان کرتے ہے عربوں نے جادو کا نام سحر اس لیے رکھا ہے کہ یہ تندرستی کوبیماری سے اوربغض کومحبت سے بدل دیتا ہے

امام راغب اصفہانی رحمت ا للہ علیہ فر ماتے ہے سحر کا لفظ مختلف معنو ں میں استعما ل ہوتا ہے اول دھوکا اور بے حقیقت تخیلات پر بولا جاتا ہے  سحر کیایک تعریف یہ بھی بیان کی گئ ہے کہ سحر باطل کو حقکی شکل میں پیش کرنا ہے

امام ابن قدامہ المقدسی رحمتہاللہ علیہ کہتے ہے ۔جادو ایسی گرہوںاور ایسے دم اور الفاظ کا نامن ہے

جن میں بولا یا لکھا جاے یا جادو گر ایسا عمل کرے ۔ جس سے اس شخص کا بدن اور دل یا عقل متاثر ہو جاے

جس پر جادو کر نا مقصود ہو اورجادو کرنا مقصودہو اور جادو واقعتا اثر رکھتا ہے چنانچہ جادوسے کسی شخص کو قتل بھی کیا جا سکتا ہے بیمار بھی کیا جا سکتا ہے جادو میاں اور بیوی کے درمیان جدا ئ بھی ڈال سکتا ہے ایک دوسرے کے دل میں نفرت یا محبت بھی پیدا کر سکتا ہے

حافظ ابن قیم رحمتہ ا للہ کہتے ہے ۔جادو خبیث روحوں کے اثرو نفوذ سے مرکب ہوتا ہے اس سے انسانی طبیعتیں متا ثر ہوتی ہے